BISE Lahore Board HSSC Part 2 Exams Roll Number Slips 2014

2
1038
BISE Lahore Board HSSC Part 2 Exams Roll Number Slips 2014
BISE Lahore Board HSSC Part 2 Exams Roll Number Slips 2014

BISE Lahore Board HSSC Part 2 Exams Roll Number Slips 2014

BISE Lahore Board Roll No Slips for HSSC-II Annual Examination,2014. Board of Intermediate and Secondary Education, Lahore Since the emergence of Pakistan on the map of the world, the examinations pertaining to the Matriculation and Intermediate level were conducted under the aegis of University of the Punjab. However, through the promulgation of the Punjab University Act (Amendment) Ordinance 1954, the Board of Secondary Education, Punjab was established in the province which took from the said University control of examinations of Secondary, Intermediate and Pakistani & Classical Languages. The first-ever examination for these stages was conducted in the year 1955.At the time of its inception in 1954, the Board inherited vast territorial jurisdictions for conducting examinations in the provinces of Punjab, Baluchistan, Azad Kashmir and Northern Areas. To BISE Lahore Board HSSC Part 2 Exams Roll Number Slips 2014accommodate overseas candidates, the Board also constituted examination centres at Kuwait and Nairobi (Kenya). Current jurisdiction of the Board of Intermediate & Secondary Education Lahore has been confined to the districts of Lahore, Kasur, Sheikhupura and Nankana Sahib.





Lahore Board Annual Exams Roll Number Slips HSSC Part-2 2014

comments

2 COMMENTS

  1. یہ ظلم کی انتہا ہے کہ لاھور بورڈ کے ریگولر امیدوار آن لائن رول نمبر سلب سے محروم ھیں۔
    بورڈ والوں نے کالجوں پر رول نمبر سلپ کی ذمہ داری تو ڈال دی ہے لیکن بد قسمتی سے بہت سے کالجوں میں سرے سے کمپیوٹر ھے ھی نہیں اور جہاں ھے وھاں کمپیوٹر چلانے والا غائب ھے یا کمپیوٹر خراب ھے یا انٹرنیٹ نہیں آ رھا۔
    آگے جب گرمیوں کی چھٹیاں ھونی ھیں تو کالج سٹاف نے بھی غائب ھو جانا ھے۔

    میرا کزن گورنمنٹ ڈگری کالج قصور میں پڑھتا ہے۔ انگلش کے پیپر کے بعد واپسی پر ایکسیڈنٹ میں اس کی رول نمبر سلپ گم ہو گئی۔ کالج رابطہ کیا لیکن وھاں کلرک صاحب تین دن کی چھٹی پر تھے۔ زخمی حالت میں بیچارہ بھاگم بھاگ قصور سے یہاں لاھور بورڈ آفس پہنچا۔ جواب ملا کہ ٹائم ختم ھو چکا ھے لہذا کل آنا۔ اگلے دن صبح

    پہنچا تو کہا گیا کہ کالج کارڈ کے ساتھ اپنے ابا کا شناختی کارڈ لاؤ۔ بے چارہ زخمی حالت میں پھر واپس قصور پہنچا۔ ابا جی تو ٹیکسلا میں نوکری کرتے ھیں۔ انھیں رابطہ کیا تو بتایا کہ شناختی کارڈ تو ان کے پاس ھے البتہ گھر میں فوٹو کاپی پڑی ھیں۔ احتیاطاً ان کی تصدیق کروا کے لے جاؤ۔ بے چارہ پھر واپس لاھور آیا تو جواب ملا کہ

    فوٹو کاپی قابل قبول نہیں ھے۔ اگلے دن سات مئی کو فزکس کا پیپر تھا لہذا واپس قصور پہنچا کہ شائد منت سماجت کر کے امتحانی مرکز میں داخل ہو کر پیپر دے سکے۔ لیکن ظالموں نے صاف کہہ دیا کہ رول نمبر سلپ کے بغیر پیپر نہیں دیا جا سکتا۔ بے چارے کا ایک پیپر ضائع ھو گیا صرف بورڈ والوں کی ھٹ دھرمی کی وجہ سے۔ ابا

    کو فون کروا کر شناختی کارڈ بذریعہ ٹی سی ایس منگوایا جس میں مزید ایک دن لگ گیا اور آج آٹھ مئی کو سفارشیں ڈلوا کر بورڈ آفس سے بالآخر رول نمبر سلپ مل گئی۔ خدا ان بورڈ والوں کے ظلم کو دیکھ رھا ھے۔ خدا ان ظالموں کو غارت کرے۔

    آپ سب بہن بھائیوں کو یہ نصحیت کرتی ھوں کہ فوراً سے پہلے اپنے رول نمبر سلپ کی فوٹو کاپی کروا لیں ورنہ ایسے ھی رسوا اور ذلیل ھونا پڑے گا کیونکہ بورڈ والے تو انسان کو انسان ھی نہیں سمجھتے۔

     

Leave a Reply